شکر ہے تیرا خدایا



شکر ہے تیرا خدایا، میں تو اس قابل نہ تھا
تُو نے اپنے گھر بلایا، میں تو اس قابل نہ تھا

اپنا دیوانہ بنایا ،میں تو اس قابل نہ تھا
گِرد کے کعبے کے پھرایا، میں تو اس قابل نہ تھا 

خاص اپنے در کا رکھا تُو نے اے مولا مجھے
 یوں نہیں در در پھرایا، میں تو اس قابل نہ تھا

مدتوں کی پیاس کو سیراب تو نے کر دیا 
جام زم زم کا پلایا، میں تواس قابل نہ تھا

میری کوتاہی کہ تیری یاد سے غافل رہا
پر نہیں تُو نے بھلایا، میں تو اس قابل نہ تھا

بھا گیا میری زباں کو ذکر"الا اللہ" کا
یہ سبق کس نے پڑھایا، میں تو اس قابل نہ تھا

مجھ کو بھٹکانے لگے تھے راستے کے پیچ و خم 
قافلے سے لا ملایا میں، تو اس قابل نہ تھا

شکر رب کا جس نے مجھ کو بے حسی کے باوجود
خوابِ غفلت سے جگایا، میں تو اس قابل نہ تھا

میں کہ تھا بے راہ تو نے دستگیری آپ کی
تو ہی مجھ کو در پہ لایا ،میں تو اس قابل نہ تھا

تیری رحمت، تیری شفقت سے ہوا مجھ کو نصیب
گنبدِ خضرا کا سایہ، میں تو اس قابل نہ تھا

بارگاہِ سیدِ کونین ﷺ میں آکر نفیسّ
سوچتا ہوں کیسے آیا، میں تو اس قابل نہ تھا

میں نے جو دیکھا سو دیکھا بارگاہ اقدس میں
اور جو پایا سو پایا ،میں تو اس قابل نہ تھا

نعمتیں دی ہیں مری اوقات سے بڑھ کر مجھے
شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں